Sunan Abi Dawood Hadith 4409 (سنن أبي داود)
[4409]إسنادہ حسن
أخرجہ ابن ماجہ (3958 وسندہ حسن) المشعث بن طریف: حسن الحدیث، وثقہ ابن حبان (7/ 524) وقال صالح بن جزرۃ: ’’ومشعث جلیل، لا یعرف في قضاۃ خراسان أجل منہ‘‘، وانظر الحدیث السابق (4261)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الصَّامِتِ،عَنْ أَبِي ذَرٍّ،قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ: يَا أَبَا ذَرٍّ!،قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللہِ وَسَعْدَيْكَ! فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيہِ بِالْوَصِيفِ.-يَعْنِي: الْقَبْرَ-؟!،قُلْتُ: اللہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ!-أَوْ-مَا خَارَ اللہُ وَرَسُولُہُ،قَالَ: عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ-أَوْ قَالَ:-تَصْبِرُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: يُقْطَعُ النَّبَّاشُ, لِأَنَّہُ دَخَلَ عَلَی الْمَيِّتِ بَيْتَہُ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا ’’اے ابوذر!‘‘ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول اللہ! اور مطیع فرماں ہوں! فرمایا ’’تیرا کیا حال ہو گا جب لوگوں کو موت آئے گی اور ان حالات میں گھر ایک غلام کے بدلے میں ملے گا؟‘‘ اور آپ ﷺ کی مراد تھی ’’قبر۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ‘ یا کہا کہ جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرما دیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’صبر کرنا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد بن ابوسلیمان نے کہا: کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے ‘ کیونکہ وہ میت کے گھر میں داخل ہوتا ہے۔