Sunan Abi Dawood Hadith 4410 (سنن أبي داود)
[4410]حسن
مصعب بن ثابت: حسن الحدیث، ولہ شاھد عند النسائي (4980 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (3603)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ الْہِلَالِيُّ،حَدَّثَنَا جَدِّي،عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَقَالَ: اقْتُلُوہُ،فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّمَا سَرَقَ! فَقَالَ: اقْطَعُوہُ،قَالَ: فَقُطِعَ،ثُمَّ جِيءَ بِہِ الثَّانِيَةَ،فَقَالَ: اقْتُلُوہُ،فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّمَا سَرَقَ! فَقَالَ: اقْطَعُوہُ،قَالَ فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِہِ الثَّالِثَةَ،فَقَالَ: اقْتُلُوہُ،فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّمَا سَرَقَ! فَقَالَ: اقْطَعُوہُ،ثُمَّ أُتِيَ بِہِ الرَّابِعَةَ،فَقَالَ: اقْتُلُوہُ،فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّمَا سَرَقَ! قَالَ: اقْطَعُوہُ،فَأُتِيَ بِہِ الْخَامِسَةَ،فَقَالَ: اقْتُلُوہُ،قَالَ جَابِرٌ: فَانْطَلَقْنَا بِہِ فَقَتَلْنَاہُ،ثُمَّ اجْتَرَرْنَاہُ فَأَلْقَيْنَاہُ فِي بِئْرٍ،وَرَمَيْنَا عَلَيْہِ الْحِجَارَةَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے قتل کر دو۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو چوری کی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس کا (ہاتھ) کاٹ دو ‘ چنانچہ اس کا (ہاتھ) کاٹ دیا گیا۔پھر اسے دوبارہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے قتل کر دو۔‘‘ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس کا (بایاں پاؤں) کاٹ دو۔‘‘ چنانچہ کاٹ دیا گیا۔پھر اسے تیسری بار لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے قتل کر دو۔‘‘ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس کا (بایاں ہاتھ) کاٹ دو۔‘‘ پھر چوتھی بار لایا گیا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے قتل کر دو۔‘‘ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس کا دایاں پاؤں) کاٹ دو۔‘‘ پھر اسے پانچویں بار لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے قتل کر دو۔‘‘ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر ڈالا۔پھر اسے گھسیٹ کر ایک کنویں میں ڈال دیا اور اوپر سے پتھر مارے۔