Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4411 (سنن أبي داود)

[4411] إسنادہ ضعیف

ترمذی (1447) نسائی (4985) ابن ماجہ (2587)

حجاج بن أرطاۃ مدلس و عنعن وقال النسائي: ’’الحجاج بن أرطاۃ ضعیف ولا یحتج بہ‘‘

انوار الصحیفہ ص 156

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ،عَنْ مَكْحُولٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ،قَالَ: سَأَلْنَا فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ،عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي الْعُنُقِ لِلسَّارِقِ،أَمِنَ السُّنَّةِ ہُوَ؟ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِسَارِقٍ،فَقُطِعَتْ يَدُہُ،ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِہِ.

عبدالرحمٰن بن محیریز سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا چور کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دینا سنت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔پھر آپ ﷺ نے اس کے ہاتھ کے متعلق حکم دیا تو اس کی گردن میں ٹکا دیا گیا۔