Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4413 (سنن أبي داود)

[4413]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ،حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ،عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْہِدُوا عَلَيْہِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَہِدُوا فَأَمْسِكُوہُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّی يَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللہُ لَہُنَّ سَبِيلًا[النساء: 15]،وَذَكَرَ الرَّجُلَ بَعْدَ الْمَرْأَةِ،ثُمَّ جَمَعَہُمَا،فَقَالَ: وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِہَا مِنْكُمْ فَآذُوہُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْہُمَا[النساء: 16], فَنَسَحَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْجَلْدِ،فَقَالَ: الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ [النور: 2].

جناب عکرمہ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ ((واللاتی یأتین الفاحشۃ من نسائکم فاستشہدوا علیہن أربعۃ منکم فإن شہدوا فأمسکوہن فی البیوت حتی یتوفاہن الموت أو یجعل اللہ لہن سبیلا)) ’’تمہاری عورتوں میں سے جو کوئی بدکاری (زنا) کا ارتکاب کریں تو ان پر اپنے میں سے چار گواہ لاؤ ‘ اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔‘‘ کے سلسلے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ آیت کریمہ میں مرد کا بیان عورت کے بعد ہے۔پھر ان دونوں (مرد اور عورت) کو جمع کرتے ہوئے فرمایا ((واللذان یأتیانہا منکم فآذوہما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنہما)) اور تم میں سے جو یہ کام کریں تو انہیں ایذا دو ‘ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔‘‘ پھر یہ حکم (سورۃ النور کی) اس آیت سے منسوخ کر دیا گیا جس میں سو کوڑے مارنے کا بیان ہے ((الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منہما مائۃ جلدۃ))’’زانی مرد اور عورت ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔‘‘