Sunan Abi Dawood Hadith 4430 (سنن أبي داود)
[4430]صحیح
اختصرہ مسلم (1691) ولم یسق متنہ وحدیثہ یدل علٰی أن الزھري سمع من أبي سلمۃ ھذا الحدیث
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ, أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا،فَأَعْرَضَ عَنْہُ،ثُمَّ اعْتَرَفَ،فَأَعْرَضَ عَنْہُ،حَتَّی شَہِدَ عَلَی نَفْسِہِ أَرْبَعَ شَہَادَاتٍ،فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ: أَبِكَ جُنُونٌ؟،قَالَ: لَا قَالَ: أُحْصِنْتَ؟،قَالَ: نَعَمْ،قَالَ: فَأَمَرَ بِہِ النَّبِيُّ ﷺ،فَرُجِمَ فِي الْمُصَلَّی،فَلَمَّا أَذَلَقَتْہُ الْحِجَارَةُ فَرَّ،فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّی مَاتَ،فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ خَيْرًا،وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْہِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔اس نے آ کر زنا کرنے کا اعتراف کیا،تو نبی کریم ﷺ نے اس سے منہ موڑ لیا۔اس نے پھر اعتراف کیا،تو آپ ﷺ نے اعراض کر لیا حتیٰ کہ اس نے اپنے اوپر چار گواہیاں دیں۔تب نبی کریم ﷺ نے اس سے کہا ’’کیا تو مجنون ہے؟‘‘ بولا نہیں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا تو شادی شدہ ہے۔‘‘ کہنے لگا ہاں،تب نبی کریم ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کو عیدگاہ میں رجم کر دیا گیا۔پھر جب اسے زور زور سے پتھر پڑنے لگے تو وہ بھاگا،پس اسے جا لیا گیا اور پتھر مارے گئے حتیٰ کہ مر گیا۔تو نبی کریم ﷺ نے اس کے متعلق اچھی بات کہی مگر اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔