Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4445 (سنن أبي داود)

[4445]صحیح

صحیح بخاری (6633، 6634) صحیح مسلم (1698)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِيِّ, أَنَّہُمَا أَخْبَرَاہُ،أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَ أَحَدُہُمَا: يَا رَسُولَ اللہِ! اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللہِ! وَقَالَ الْآخَرُ-وَكَانَ أَفْقَہَہُمَا-: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللہِ! فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللہِ،وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ! قَالَ: تَكَلَّمْ،قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَی ہَذَا-وَالْعَسِيفُ: الْأَجِيرُ-،فَزَنَی بِامْرَأَتِہِ،فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي الرَّجْمَ،فَافْتَدَيْتُ مِنْہُ بِمِائَةِ شَاةٍ،وَبِجَارِيَةٍ لِي،ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَہْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ،وَتَغْرِيبَ عَامٍ،وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَی امْرَأَتِہِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ, لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللہِ, أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ،وَجَلَدَ ابْنَہُ مِائَةً،وَغَرَّبَہُ عَامًا،وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ, فَإِنِ اعْتَرَفَتْ،رَجَمَہَا،فَاعْتَرَفَتْ،فَرَجَمَہَا.

سیدنا ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنا جھگڑا لے کر آئے۔ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کر دیں۔اور دوسرے نے کہا: اور وہ اس سے بڑھ کر سمجھدار تھا۔ہاں اے اللہ کے رسول! ہم میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرما دیں اور مجھے اجازت دیں کہ بات کروں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کہو۔‘‘ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں نوکر تھا۔((عسیف)) کے معنی ہیں،نوکر،مزدور۔تو اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا۔لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے،میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی فدیہ دی ہے۔پھر میں نے اہل علم سے معلوم کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کے لیے شہر بدری ہے اور سنگساری اس کی بیوی پر ہے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔تیری بکریاں اور تیری لونڈی تجھے واپس ہوں گی۔‘‘ اور اس کے لڑکے کو سو کوڑے لگائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا اور انیس اسلمی کو فرمایا کہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائے،اگر وہ اعتراف کر لے تو اس کو سنگسار کر دے،چنانچہ اس نے اعتراف کر لیا تو اس نے اس کو سنگسار کر دیا۔