Sunan Abi Dawood Hadith 4468 (سنن أبي داود)
[4468]صحیح
صحیح بخاری (526) صحیح مسلم (2763)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْہَدٍ،حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ،حَدَّثَنَا سِمَاكٌ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ قَالَا قَالَ عَبْدُ اللہِ،جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَقَالَ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً مِنْ أَقْصَی الْمَدِينَةِ،فَأَصَبْتُ مِنْہَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّہَا،فَأَنَا ہَذَا،فَأَقِمْ عَلَيَّ مَا شِئْتَ! فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ سَتَرَ اللہُ عَلَيْكَ،لَوْ سَتَرْتَ عَلَی نَفْسِكَ! فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْہِ النَّبِيُّ ﷺ شَيْئًا،فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَأَتْبَعَہُ النَّبِيُّ ﷺ رَجُلًا،فَدَعَاہُ،فَتَلَا عَلَيْہِ: وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ...[ہود: 114], إِلَی آخِرِ الْآيَةِ،فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَلَہُ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً!؟ فَقَالَ: لِلنَّاسِ كَافَّةً.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: بیشک مدینے سے باہر میں نے ایک عورت سے بوس و کنار کیا ہے ‘ مگر مجامعت نہیں کی ہے اور اب میں آپ کے سامنے حاضر ہوں تو جو چاہے مجھے سزا دیں۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی،اگر تو بھی اپنے آپ پر پردہ ڈالے رکھتا (تو بہتر تھا) تو نبی کریم ﷺ نے اس کو کوئی جواب نہ دیا۔تو وہ آدمی چلا گیا۔نبی کریم ﷺ نے اس کے پیچھے آدمی بھیجا اور اسے طلب کیا،پھر اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی ((وأقم الصلاۃ طرفی النہار وزلفا من اللیل)) ’’دن کے دونوں اطراف میں نماز قائم کرو اور رات کے اوقات میں بھی۔بلاشبہ نیکیاں،برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں،یہ نصیحت ہے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے۔‘‘ قوم میں سے ایک آدمی بولا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’سبھی لوگوں کے لیے ہے۔‘‘