Sunan Abi Dawood Hadith 4478 (سنن أبي داود)
[4478]صحیح
انظر الحدیث السابق (4477) مشکوۃ المصابیح (3621)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ وَابْنُ لَہِيعَةَ عَنِ ابْنِ الْہَادِ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ, قَالَ فِيہِ بَعْدَ الضَّرْبِ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِأَصْحَابِہِ: بَكِّتُوہُ،فَأَقْبَلُوا عَلَيْہِ يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللہَ! مَا خَشِيتَ اللہَ! وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ! ثُمَّ أَرْسَلُوہُ،وَقَالَ فِي آخِرِہِ: وَلَكِنْ قُولُوا: اللہُمَّ اغْفِرْ لَہُ،اللہُمَّ ارْحَمْہُ. وَبَعْضُہُمْ يَزِيدُ الْكَلِمَةَ وَنَحْوَہَا.
یحییٰ بن ایوب،حیوہ بن شریح اور ابن لہیعہ نے ابن ہاد سے اس کی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔اس روایت میں مارنے کے ذکر کے بعد یوں ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا ’’اسے ذرا شرم دلاؤ،تنبیہ کرو۔‘‘ چنانچہ وہ اسے اس طرح کہنے لگے۔تجھے اللہ کا خوف نہ آیا۔تو اللہ سے ڈرا نہیں۔تجھے اللہ کے رسول ﷺ سے حیاء نہ آئی۔پھر اس کو چھوڑ دیا اور روایت کے آخر میں ہے۔’’لیکن یوں کہو: اے اللہ! اس کو معاف کر دے۔اے اللہ! اس پر رحم فرما۔‘‘ اور بعض راویوں نے اسی قسم کے الفاظ زیادہ کیے ہیں۔