Sunan Abi Dawood Hadith 4480 (سنن أبي داود)
[4480]صحیح
صحیح مسلم (1707)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْہَدٍ وَمُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ الدَّانَاجُ،حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ ہُوَ أَبُو سَاسَانَ قَالَ شَہِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَشَہِدَ عَلَيْہِ حُمْرَانُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَشَہِدَ أَحَدُہُمَا أَنَّہُ رَآہُ شَرِبَہَا يَعْنِي الْخَمْرَ وَشَہِدَ الْآخَرُ أَنَّہُ رَآہُ يَتَقَيَّأُ فَقَالَ عُثْمَانُ إِنَّہُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّی شَرِبَہَا فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ أَقِمْ عَلَيْہِ الْحَدَّ فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ أَقِمْ عَلَيْہِ الْحَدَّ فَقَالَ الْحَسَنُ وَلِّ حَارَّہَا مَنْ تَوَلَّی قَارَّہَا فَقَالَ عَلِيٌّ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ أَقِمْ عَلَيْہِ الْحَدَّ قَالَ فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَلَدَہُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ قَالَ: حَسْبُكَ جَلَدَ النَّبِيُّ ﷺ أَرْبَعِينَ أَحْسَبُہُ, قَالَ: وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ وَہَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ.
حضین بن منذر رقاشی ابو ساسان کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر تھا کہ ولید بن عقبہ کو لایا گیا۔تو حمران اور ایک دوسرے آدمی نے اس پر گواہی دی۔ایک نے کہا کہ میں نے اس کو شراب پیتے دیکھا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میں نے اس کو قے کرتے دیکھا ہے۔تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے شراب پی تبھی قے کی۔پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس کو حد لگاؤ۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس کو حد لگاؤ۔تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کی حرارت اسی کے حوالے کریں جو اس کی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہوتا ہے۔(اشارہ تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی کو یہ کڑوا کسیلا کام کرنا چاہیئے)۔پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جعفر سے کہا کہ اس کو حد لگاؤ۔تو اس نے کوڑا لیا اور مارنے لگے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے۔جب چالیس کو پہنچے تو کہا کہ بس،کافی ہے۔نبی کریم ﷺ نے چالیس ضربیں ماری تھیں۔(حضین نے کہا) میرا خیال ہے کہ یوں کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی ضربیں ماریں اور سب ہی سنت ہے اور یہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔