Sunan Abi Dawood Hadith 4519 (سنن أبي داود)
[4519]إسنادہ حسن
أخرجہ ابن ماجہ (2680 وسندہ حسن)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَوَّارٌ أَبُو حَمْزَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مُسْتَصْرِخٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ جَارِيَةٌ لَہُ يَا رَسُولَ اللہِ فَقَالَ وَيْحَكَ مَا لَكَ قَالَ شَرًّا أَبْصَرَ لِسَيِّدِہِ جَارِيَةً لَہُ فَغَارَ فَجَبَّ مَذَاكِيرَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَيَّ بِالرَّجُلِ فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ اذْہَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ عَلَی مَنْ نُصْرَتِي قَالَ عَلَی كُلِّ مُؤْمِنٍ أَوْ قَالَ كُلِّ مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو دَاوُد الَّذِي عَتَقَ كَانَ اسْمُہُ رَوْحُ بْنُ دِينَارٍ قَالَ أَبُو دَاوُد الَّذِي جَبَّہُ زِنْبَاعٌ قَالَ أَبُو دَاوُد ہَذَا زِنْبَاعٌ أَبُو رَوْحٍ كَانَ مَوْلَی الْعَبْدِ
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے ‘ وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی چلاتا ہوا نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اس کی لونڈی تھی ‘ اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا ’’افسوس تجھ پر ‘ تجھے کیا ہوا ہے؟‘‘ اس نے کہا: بہت برا ہوا ہے۔میں نے اپنے مالک کی لونڈی کو دیکھ لیا ‘ تو اسے غیرت آئی اور پھر اس نے میرا ذکر کاٹ ڈلا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔‘‘ اسے ڈھونڈا گیا مگر نہ لا سکے۔تو آپ ﷺ نے غلام سے فرمایا ’’جاؤ تم آزاد ہو۔‘‘ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! (اگر وہ مجھے دوبارہ غلام بنانے کی کوشش کرے تو) میری مدد کون کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہر مسلمان۔‘‘ یا فرمایا ’’ہر مومن‘‘۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزاد کیے جانے والے کا نام روح بن دینار تھا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس نے اس کا ذکر کاٹا اس کا نام زنباع تھا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زنباع ابوروح ہے۔یہ اس غلام (روح بن دینار) کا آقا تھا۔