Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4521 (سنن أبي داود)

[4521]صحیح

انظر الحدیث السابق (4520)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي لَيْلَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ ہُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِہِ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ سَہْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَی خَيْبَرَ مِنْ جَہْدٍ أَصَابَہُمْ فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ سَہْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَی يَہُودَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَاللہِ قَتَلْتُمُوہُ قَالُوا وَاللہِ مَا قَتَلْنَاہُ فَأَقْبَلَ حَتَّی قَدِمَ عَلَی قَوْمِہِ فَذَكَرَ لَہُمْ ذَلِكَ ثُمَّ أَقْبَلَ ہُوَ وَأَخُوہُ حُوَيِّصَةُ وَہُوَ أَكْبَرُ مِنْہُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَہْلٍ فَذَہَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَہُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ كَبِّرْ كَبِّرْ يُرِيدُ السِّنَّ فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ فَكَتَبَ إِلَيْہِمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِذَلِكَ فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللہِ مَا قَتَلْنَاہُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ قَالُوا لَا قَالَ فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَہُودُ قَالُوا لَيْسُوا مُسْلِمِينَ فَوَدَاہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ عِنْدِہِ فَبَعَثَ إِلَيْہِمْ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّی أُدْخِلَتْ عَلَيْہِمْ الدَّارَ قَالَ سَہْلٌ لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْہَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ

سیدنا سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم کے بڑوں نے خبر دی کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ لوگوں کو مالی مشکلات کا سامنا تھا تو وہ دونوں (محنت مزدوری کی تلاش میں) خیبر کی طرف نکل گئے۔پھر محیصہ کو خبر دی گئی کہ عبداللہ بن سہل کو قتل کر کے ایک کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔تو وہ یہودیوں کے پاس گیا اور کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں ہی نے اس کو قتل کیا ہے۔انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ہم نے اس کو قتل نہیں کیا۔پھر وہ چلا آیا اور اپنی قوم کے پاس پہنچا اور ان کو سب بتایا۔تو وہ اور اس کا بڑا بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل (رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں) حاضر ہوئے۔تو محیصہ بات کرنے لگا اور یہی تھا جو خیبر میں گیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بڑے کا خیال کر۔‘‘ یعنی جو عمر میں بڑا ہے۔پھر حویصہ نے بات کی۔پھر محیصہ نے کی۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’وہ لوگ تمہارے آدمی کی یا تو دیت دیں گے ورنہ جنگ کے تیار رہیں۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ تفصیل لکھ بھیجی۔انہوں نے جواباً لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔تو رسول اللہ ﷺ نے حویصہ،محیصہ اور عبدالرحمٰن سے فرمایا ’’کیا تم لوگ قسمیں کھاؤ گے کہ اپنے آدمی کے خون کے حقدار بن سکو۔‘‘ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’پھر تمہارے مقابلے میں یہودی قسمیں کھائیں گے۔‘‘ ان لوگوں نے کہا: وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔(یعنی ان کی قسموں کا کیونکر اعتبار کریں؟) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا فرمائی اور سو اونٹنیاں ان کی طرف بھیج دیں حتیٰ کہ ان کے احاطے میں داخل کر دی گئیں۔سہل کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات دے ماری تھی۔