Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4522 (سنن أبي داود)

[4522] إسنادہ ضعیف

السند مرسل

والولید مدلس و عنعن

انوار الصحیفہ ص 159

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ عَنْ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ أَنَّہُ قَتَلَ بِالْقَسَامَةِ رَجُلًا مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مَالِكٍ بِبَحْرَةِ الرُّغَاءِ عَلَی شَطِّ لِيَّةِ الْبَحْرَةِ قَالَ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ مِنْہُمْ وَہَذَا لَفْظُ مَحْمُودٍ بِبَحْرَةٍ أَقَامَہُ مَحْمُودٌ وَحْدَہُ عَلَی شَطِّ لِيَّةَ

جناب عمرو بن شعیب روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نصر بن مالک کے ایک آدمی کو قسامت کے فیصلے کی بنا پر (قصاص میں) قتل کیا تھا۔یہ قبیلہ (طائف کے مضافات میں) لیہ شہر کے کنارے بحرۃ الرغاء کے مقام پر سکونت پذیر تھا۔راوی نے کہا کہ قاتل اور مقتول ان میں سے تھے۔یہ الفاظ محمود بن خالد کے ہیں۔جس نے وضاحت سے ’’بحرۃ الرغاء‘‘ اور ’’شط لیہ‘‘ کے الفاظ بیان کیے ہیں۔