Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4523 (سنن أبي داود)

[4523]صحیح

صحیح بخاری (6898) صحیح مسلم (1669)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَہُ سَہْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَہُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِہِ انْطَلَقُوا إِلَی خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيہَا فَوَجَدُوا أَحَدَہُمْ قَتِيلًا فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوہُ عِنْدَہُمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا فَقَالُوا مَا قَتَلْنَاہُ وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا فَانْطَلَقْنَا إِلَی نَبِيِّ اللہِ ﷺ قَالَ فَقَالَ لَہُمْ تَأْتُونِي بِالْبَيِّنَةِ عَلَی مَنْ قَتَلَ ہَذَا قَالُوا مَا لَنَا بَيِّنَةٌ قَالَ فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ قَالُوا لَا نَرْضَی بِأَيْمَانِ الْيَہُودِ فَكَرِہَ نَبِيُّ اللہِ ﷺ أَنْ يُبْطِلَ دَمَہُ فَوَدَاہُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ

جناب سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور وہاں جا کر علیحدہ علیحدہ ہو گئے۔پھر انہوں نے اپنے میں سے ایک کو پایا کہ اسے قتل کر دیا گیا تھا ‘ تو انہوں نے وہاں کے لوگوں سے کہا جہاں قتل ہوا تھا کہ تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے۔انہوں نے کہا: ہم نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ ہمیں اس کے قاتل کی خبر ہے۔چنانچہ ہم اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں آ گئے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم لوگ اس کے قاتل کے متعلق گواہ پیش کرو۔‘‘ انہوں نے کہا: ہمارے پاس کوئی گواہ نہیں ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تب وہ تمہارے جواب میں قسمیں کھائیں گے؟‘‘ انہوں نے کہا: ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہیں۔تب رسول اللہ ﷺ نے ناپسند کیا کہ اس مقتول کا خون ضائع جائے تو صدقہ کے اونٹوں میں سے اس کی دیت سو اونٹنیاں ادا فرما دی۔