Sunan Abi Dawood Hadith 4524 (سنن أبي داود)
[4524]صحیح
وللحدیث شواھد کثیرۃ جدًا منھا الحدیث السابق (4523) مشکوۃ المصابیح (3532)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ أَخْبَرَنَا ہُشَيْمٌ عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ حَدَّثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُہُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَہُ فَقَالَ لَكُمْ شَاہِدَانِ يَشْہَدَانِ عَلَی قَتْلِ صَاحِبِكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَإِنَّمَا ہُمْ يَہُودُ وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَی أَعْظَمَ مِنْ ہَذَا قَالَ فَاخْتَارُوا مِنْہُمْ خَمْسِينَ فَاسْتَحْلَفُوہُمْ فَأَبَوْا فَوَدَاہُ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ عِنْدِہِ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصاریوں کا ایک آدمی خیبر میں قتل ہو گیا۔تو اس کے وارث نبی کریم ﷺ کے ہاں گئے اور اس مقتول کا ذکر کیا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے اس ساتھی کے قتل کے متعلق گواہی دیں؟‘‘ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں مسلمانوں میں سے کوئی بھی نہ تھا ‘ اور وہ لوگ یہودی ہیں ‘ وہ اس سے بھی بڑی باتوں کی جرات کر سکتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو ان میں سے پچاس آدمیوں کو منتخب کر لو اور ان سے قسمیں لے لو۔‘‘ مگر انہوں نے انکار کر دیا۔تب رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا فرمائی۔