Sunan Abi Dawood Hadith 4527 (سنن أبي داود)
[4527]صحیح
صحیح بخاری (2746) صحیح مسلم (1672)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُہَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَہَا مَنْ فَعَلَ بِكِ ہَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّی سُمِّيَ الْيَہُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِہَا فَأُخِذَ الْيَہُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُہُ بِالْحِجَارَةِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا گیا تھا (اور ابھی اس میں زندگی کی رمق باقی تھی) تو اس سے پوچھا گیا: یہ تیرے ساتھ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ حتیٰ کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔(ہاں) تو اس یہودی کو پکڑا گیا اور پھر اس نے اعتراف کر لیا تو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھروں سے کچلا جائے۔