Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4529 (سنن أبي داود)

[4529]صحیح

صحیح بخاری (6877) صحیح مسلم (1672)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ جَدِّہِ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً كَانَ عَلَيْہَا أَوْضَاحٌ لَہَا فَرَضَخَ رَأْسَہَا يَہُودِيٌّ بِحَجَرٍ فَدَخَلَ عَلَيْہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَبِہَا رَمَقٌ فَقَالَ لَہَا مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ فَقَالَتْ لَا بِرَأْسِہَا قَالَ مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ قَالَتْ لَا بِرَأْسِہَا قَالَ فُلَانٌ قَتَلَكِ قَالَتْ نَعَمْ بِرَأْسِہَا فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقُتِلَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی اپنے چاندی کے زیور پہنے ہوئے تھی کہ ایک یہودی نے پتھر سے اس کا سر کچل دیا۔تو رسول اللہ ﷺ اس لڑکی کے پاس آئے جب کہ (ابھی) اس میں زندگی کی رمق باقی تھی۔آپ ﷺ نے اس سے پوچھا ’’تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ کیا فلاں نے قتل کیا ہے؟‘‘ اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا نہیں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’تجھے کس نے قتل کیا ہے،کیا فلاں نے قتل کیا ہے؟‘‘ اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا نہیں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟‘‘ اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا ہاں۔رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے دو پتھروں میں رکھ کر قتل کیا گیا۔