Sunan Abi Dawood Hadith 4530 (سنن أبي داود)
[4530] إسنادہ ضعیف
نسائی (4738)
قتادۃ والحسن البصری عنعنا
وللحدیث شواھد صحیحۃ عند البخاري (111،7300) و مسلم (1370) وغیرہما دون قولہ: ’’ولا ذو عہد في عھدہ‘‘
وانظر ضعیف سنن ابن ماجہ (2660)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالْأَشْتَرُ إِلَی عَلِيٍّ عَلَيْہِ السَّلَام فَقُلْنَا ہَلْ عَہِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللہِ ﷺ شَيْئًا لَمْ يَعْہَدْہُ إِلَی النَّاسِ عَامَّةً قَالَ لَا إِلَّا مَا فِي كِتَابِي ہَذَا قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ فَأَخْرَجَ كِتَابًا وَقَالَ أَحْمَدُ كِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَيْفِہِ فَإِذَا فِيہِ الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُہُمْ وَہُمْ يَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ وَيَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَہْدٍ فِي عَہْدِہِ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَی نَفْسِہِ وَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْہِ لَعْنَةُ اللہِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ قَالَ مُسَدَّدٌ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ فَأَخْرَجَ كِتَابًا
سیدنا قیس بن عباد سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ میں اور اشتر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور ان سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو کوئی خاص وصیت فرمائی ہے جو عام لوگوں سے نہ کہی ہو؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔سوائے اس کے جو میرے پاس اس مکتوب میں ہے۔مسدد کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے وہ تحریر نکالی۔امام احمد بن حنبل نے کہا: انہوں نے اپنی تلوار کی میان میں سے وہ تحریر نکالی۔تو اس میں تھا ’’تمام اہل ایمان کے خون برابر ہیں اور وہ اپنے علاوہ کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہیں (ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہیں)۔ان کے ذمے اور امان کا ان کا ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی بھی پابند ہے۔خبردار! کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے میں اور کسی امان والے کو اس کے ایام امان میں قتل نہ کیا جائے،جس نے دین میں کوئی نیا کام کیا (بدعت ایجاد کی) تو اس کا وبال اس کی اپنی جان پر ہے،جس نے کوئی بدعت ایجاد کی یا کسی بدعتی کو جگہ دی تو اس پر اللہ کی،فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔‘‘ مسدد نے بواسطہ،ابن ابوعروبہ (یوں) روایت کیا: پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر نکالی۔