Sunan Abi Dawood Hadith 4536 (سنن أبي داود)
[4536] إسنادہ ضعیف
نسائی (4777)
عبیدۃ بن مسافح،لم یوثقہ غیر ابن حبان فھو مجھول الحال
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللہِ ﷺ يَقْسِمُ قَسْمًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْہِ فَطَعَنَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَہُ فَجُرِحَ بِوَجْہِہِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ تَعَالَ فَاسْتَقِدْ فَقَالَ بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللہِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اور آپ ﷺ کے اوپر جھک گیا،تو آپ ﷺ نے اپنی کھجور کی لاٹھی سے جو آپ کے پاس تھی اسے کچوکا دیا،پس اس سے اس کا چہرہ زخمی ہو گیا۔تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا ’’آؤ اور اپنا بدلہ لے لو۔‘‘ اس نے جواب دیا اے اللہ کے رسول! میں نے معاف کیا۔