Sunan Abi Dawood Hadith 4538 (سنن أبي داود)
[4538] إسنادہ ضعیف
نسائی (4792)
حصن مقبول (تقریب: 1364) أي: مجہول الحال
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ أَنَّہُ سَمِعَ حِصْنًا أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ أَنَّہُ قَالَ عَلَی الْمُقْتَتِلِينَ أَنْ يَنْحَجِزُوا الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ وَإِنْ كَانَتْ امْرَأَةً قَالَ أَبُو دَاوُد بَلَغَنِي أَنَّ عَفْوَ النِّسَاءِ فِي الْقَتْلِ جَائِزٌ إِذَا كَانَتْ إِحْدَی الْأَوْلِيَاءِ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ فِي قَوْلِہِ يَنْحَجِزُوا يَكُفُّوا عَنْ الْقَوَدِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’لڑائی کرنے (قصاص کا مطالبہ کرنے) والے بدلہ لینے میں حوصلے سے کام لیں (جلدی نہ کریں)۔وارثوں میں سے معاف کرنے کا حق درجہ بدرجہ ہے،خواہ کوئی عورت ہی ہو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ((ینحجزوا)) کے معنی ہیں ’’قصاص لینے سے رک جانا۔‘‘ مزید فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ قتل کے معاملے میں وارثوں میں اگر کوئی عورت بھی ہو تو وہ بھی معاف کر سکتی ہے۔اور ((أن ینحجزوا)) کے معنی کے سلسلے میں ابوعبیدہ سے مجھے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کا مفہوم ہے ’’قصاص لینے سے باز رہیں۔“