Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4539 (سنن أبي داود)

[4539]صحیح

انظر الحدیث الآتي (4540) مشکوۃ المصابیح (3478)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَہَذَا حَدِيثُہُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ مَنْ قُتِلَ وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا فِي رَمْيٍ يَكُونُ بَيْنَہُمْ بِحِجَارَةٍ أَوْ بِالسِّيَاطِ أَوْ ضَرْبٍ بِعَصًا فَہُوَ خَطَأٌ وَعَقْلُہُ عَقْلُ الْخَطَإِ وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَہُوَ قَوَدٌ قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ قَوَدُ يَدٍ ثُمَّ اتَّفَقَا وَمَنْ حَالَ دُونَہُ فَعَلَيْہِ لَعْنَةُ اللہِ وَغَضَبُہُ لَا يُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُوسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَذَكَرَ مَعْنَی حَدِيثِ سُفْيَانَ

جناب طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو کوئی کسی بلوے میں مارا گیا ہو۔اور ابن عبید کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص کسی بلوے میں مارا گیا ہو (کہ اس کا قاتل دیکھا نہ گیا ہو) سنگباری ہوئی ہو یا ڈنڈے بازی یا کسی لاٹھی سے مرا ہو تو یہ قتل خطا ہے،اس کی دیت قتل خطا والی ہو گی۔البتہ جو شخص (جان بوجھ کر) عمداً قتل کیا گیا ہو تو اس میں قصاص ہے۔‘‘ ابن عبید کے لفظ ہیں ((قود ید)) (قاتل کی جان سے قصاص لیا جائے گا) اور جو اس (قصاص لینے) میں رکاوٹ بنے تو اس پر اللہ کی لعنت اور غضب ہو،اس کا کوئی نفل یا فرض مقبول نہیں۔‘‘ سفیان کی حدیث زیادہ کامل ہے۔