Sunan Abi Dawood Hadith 4574 (سنن أبي داود)
[4574] إسنادہ ضعیف
نسائی (4832)
سلسلۃ سماک عن عکرمۃ ضعیفۃ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ طَلْحَةَ حَدَّثَہُمْ،قَالَ:،حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ،عَنْ سِمَاكٍ،عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا-قَدْ نَبَتَ شَعْرُہُ-مَيِّتًا،وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ،فَقَضَی عَلَی الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ،فَقَالَ عَمُّہَا: إِنَّہَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا نَبِيَّ اللہِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُہُ! فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ: إِنَّہُ كَاذِبٌ،إِنَّہُ وَاللہِ مَا اسْتَہَلَّ،وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ،فَمِثْلُہُ يُطَلُّ!؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: أَسَجْعَ الْجَاہِلِيَّةِ وَكَہَانَتَہَا؟! أَدِّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ اسْمُ إِحْدَاہُمَا: مُلَيْكَةَ،وَالْأُخْرَی: أُمَّ غُطَيْفٍ.
جناب عکرمہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حمل بن مالک کے واقعہ میں بیان کیا کہ اس نے عورت کا بچہ ساقط کر دیا جو مردہ تھا اور اس کے بال اگ چکے تھے اور عورت بھی مر گئی۔تو آپ ﷺ نے اس کی دیت اس قاتلہ کے وارثوں پر ڈال دی۔مقتولہ کے چچا نے کہا: اس کا بچہ ساقط ہوا ہے،اے اللہ کے نبی،جس کے بال اگ چکے تھے۔تو قاتلہ کے والد نے کہا: یہ جھوٹا ہے،اللہ کی قسم! بچہ نہ چیخا نہ چلایا،نہ پیا نہ کھایا،ایسا خون تو باطل ہوتا ہے (اس میں قصاص ہوتا ہے نہ دیت)۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’یہ کیا جاہلوں اور کاہنوں کی سی سجع ہے؟ بچے کی دیت میں ایک غلام یا لونڈی ادا کرو۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ان عورتوں میں سے ایک کا نام ملیکہ تھا اور دوسری کا ام غطیف۔