Sunan Abi Dawood Hadith 4575 (سنن أبي داود)
[4575] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (2648)
مجالد ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ ہُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاہُمَا الْأُخْرَی وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْہُمَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَی عَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ وَبَرَّأَ زَوْجَہَا وَوَلَدَہَا قَالَ فَقَالَ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ مِيرَاثُہَا لَنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَا مِيرَاثُہَا لِزَوْجِہَا وَوَلَدِہَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک کا شوہر بھی تھا اور بچہ بھی۔تو رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عاقلہ پر ڈالی۔اس قاتلہ کے شوہر اور بیٹے کو اس دیت کی ادائیگی سے بری رکھا۔تو مقتولہ کے عاقلہ کہنے لگے کہ اس کی میراث ہمارا حق ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں اس کی وراثت اس کے شوہر اور بیٹے کا حق ہے۔‘‘