Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4607 (سنن أبي داود)

[4607]إسنادہ صحیح

أخرجہ الترمذي (2676 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (165)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ،قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ،قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ،وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ،قَالَا: أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ وَہُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِيہِ: وَلَا عَلَی الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْہِ[التوبة: 92], فَسَلَّمْنَا،وَقُلْنَا: أَتَيْنَاكَ زَائِرِينَ،وَعَائِدِينَ،وَمُقْتَبِسِينَ،فَقَالَ الْعِرْبَاضُ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ،ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا،فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً،ذَرَفَتْ مِنْہَا الْعُيُونُ،وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوبُ،فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللہِ! كَأَنَّ ہَذِہِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ! فَمَاذَا تَعْہَدُ إِلَيْنَا؟ فَقَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَی اللہِ،وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ،وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا, فَإِنَّہُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَی اخْتِلَافًا كَثِيرًا،فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَہْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ, تَمَسَّكُوا بِہَا،وَعَضُّوا عَلَيْہَا بِالنَّوَاجِذِ،وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ, فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ،وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

جناب عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کا بیان ہے کہ ہم سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تھی ((ولا علی الذین إذا ما أتوک لتحملہم قلت لا أجد ما أحملکم علیہ)) ’’ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں کہ جب وہ آپ کے پاس آئے کہ آپ انہیں سواری دیں،آپ نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں،تو وہ اس حال میں لوٹ گئے کہ ان کی آنکھیں،اس غم سے آنسو بہا رہی تھیں کہ انہیں کچھ میسر نہیں جسے وہ خرچ کریں۔‘‘ ہم نے انہیں سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ سے ملنے کے لیے آئے ہیں اور یہ کہ آپ کی عیادت ہو جائے اور کوئی علمی فائدہ بھی حاصل کر لیں،تو سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک دن نماز پڑھائی،پھر ہماری طرف منہ کر لیا اور وعظ فرمایا،بڑا ہی بلیغ اور جامع وعظ،ایسا کہ اس سے ہماری آنکھیں بہہ پڑیں اور دل دہل گئے۔ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو گویا الوداعی وعظ تھا،تو آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ فرمایا ’’میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رہنا اور اپنے حکام کے احکام سننا اور ماننا،خواہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔بلاشبہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہا وہ بہت اختلاف دیکھے گا،چنانچہ ان حالات میں میری سنت اور میرے خلفاء کی سنت اپنائے رکھنا،خلفاء جو اصحاب رشد و ہدایت ہیں،سنت کو خوب مضبوطی سے تھامنا،بلکہ ڈاڑھوں سے پکڑے رہنا،نئی نئی بدعات و اختراعات سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا،بلاشبہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘