Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4614 (سنن أبي داود)

[4614]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْجَرَّاحِ،قَالَ:،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ،قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: يَا أَبَا سَعِيدٍ! أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ, أَلِلسَّمَاءِ خُلِقَ أَمْ لِلْأَرْضِ؟ قَالَ: لَا, بَلْ لِلْأَرْضِ،قُلْتُ: أَرَأَيْتَ لَوْ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْ الشَّجَرَةِ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ لَہُ مِنْہُ بُدٌّ،قُلْتُ: أَخْبِرْنِي،عَنْ قَوْلِہِ تَعَالَی: مَا أَنْتُمْ عَلَيْہِ بِفَاتِنِينَ. إِلَّا مَنْ ہُوَ صَالِ الْجَحِيمِ[الصافاتك 162-163]؟ قَالَ: إِنَّ الشَّيَاطِينَ لَا يَفْتِنُونَ بِضَلَالَتِہِمْ, إِلَّا مَنْ أَوْجَبَ اللہُ عَلَيْہِ الْجَحِيمَ.

جناب خالد الحذاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شام میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک دوست تھا،جس کی ان سے خط کتابت رہتی تھی۔سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو لکھا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تو نے تقدیر کے بارے میں کوئی باتیں کی ہیں۔(تو تقدیر کو جھٹلاتا ہے) لہٰذا آئندہ کے لیے مجھے کوئی خط نہ لکھنا۔بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے،آپ ﷺ فرماتے تھے ’’تحقیق میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔“