Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4615 (سنن أبي داود)

[4615]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ،عَنْ الْحَسَنِ فِي قَوْلِہِ تَعَالَی: وَلِذَلِكَ خَلَقَہُمْ[ہود: 119], قَالَ: خَلَقَ ہَؤُلَاءِ لِہَذِہِ،وَہَؤُلَاءِ لِہَذِہِ.

جناب خالد الحذاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب حسن بصری رحمہ اللہ سے کہا: ابوسید! مجھے یہ بتائیں کہ سیدنا آدم علیہ السلام آسمان کے لیے پیدا کیے گئے تھے یا زمین کے لیے؟ انہوں نے کہا: زمین کے لیے۔میں نے کہا: کیا خیال ہے اگر وہ گناہ سے بچ جاتے اور درخت سے نہ کھاتے تو؟ کہا: یہ ان کے لیے ممکن ہی نہ تھا (کیونکہ یہ مقدر تھا۔) میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مفہوم ہے (جو جنات اور شیاطین کے متعلق فرمایا) ((ما أنتم علیہ بفاتنین * إلا من ہو صال الجحیم)) ’’تم کسی کو اللہ کی طرف سے نہیں پھیر (بہکا) سکتے ہو،مگر اسے ہی جو جہنم میں پڑنے والا ہو۔) کہا کہ شیاطین اپنی گمراہی سے صرف انہی کو گمراہ کرتے ہیں جن پر اللہ نے جہنم میں گرنا واجب کیا ہو