Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4635 (سنن أبي داود)

[4635] إسنادہ ضعیف

علي بن زید بن جدعان ضعیف

انوار الصحیفہ ص 163

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ،عَنْ أَبِيہِ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: أَيُّكُمْ رَأَی رُؤْيَا؟... فَذَكَرَ مَعْنَاہُ،وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَرَاہِيَةَ،قَالَ: فَاسْتَاءَ لَہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ،-يَعْنِي: فَسَاءَہُ ذَلِكَ-،فَقَالَ: خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ،ثُمَّ يُؤْتِي اللہُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ.

جناب عبدالرحمٰن اپنے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہنبی کریم ﷺ نے ایک دن دریافت فرمایا ’’تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟‘‘ تو مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی بیان کیا۔مگر اس روایت میں ((کراہیۃ)) کا ذکر نہیں۔بلکہ ((فاستاء لہا رسول اللہ ﷺ)) یعنی آپ ﷺ کو یہ کیفیت پسند نہ آئی۔پھر فرمایا ’’یہ نبوت کی خلافت ہے۔پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا اپنا ملک عنایت فرما دے گا۔‘‘