Sunan Abi Dawood Hadith 4650 (سنن أبي داود)
[4650]إسنادہ صحیح
أخرجہ ابن ماجہ (133 وسندہ صحیح)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ،حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّی النَّخَعِيُّ،حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ،قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ فُلَانٍ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ،وَعِنْدَہُ أَہْلُ الْكُوفَةِ،فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ،فَرَحَّبَ بِہِ وَحَيَّاہُ،وَأَقْعَدَہُ عِنْدَ رِجْلِہِ عَلَی السَّرِيرِ،فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَہُ: قَيْسُ بْنُ عَلْقَمَةَ-،فَاسْتَقْبَلَہُ فَسَبَّ وَسَبَّ،فَقَالَ سَعِيدٌ: مَنْ يَسُبُّ ہَذَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: يَسُبُّ عَلِيًّا،قَالَ: أَلَا أَرَی أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ ﷺ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ! ثُمَّ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ! أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ-وَإِنِّي لَغَنِيٌّ أَنْ أَقُولَ عَلَيْہِ مَا لَمْ يَقُلْ،فَيَسْأَلَنِي عَنْہُ غَدًا إِذَا لَقِيتُہُ-:-أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ،وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ... وَسَاقَ مَعْنَاہُ،ثُمَّ قَالَ: لَمَشْہَدُ رَجُلٍ مِنْہُمْ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ،يَغْبَرُّ فِيہِ وَجْہُہُ, خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَہُ،وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ.
ریاح بن حارث کا بیان ہے کہ میں کوفہ کی مسجد میں فلاں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔(اشارہ ہے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف) اور ان کے پاس اہل کوفہ کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔تو سیدنا سعید بن زبیر بن عمرہ بن نفیل رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔پس انہوں (مغیرہ) نے انکو مرحبا کہا اور خوش آمدید کہا اور پھر انہیں اپنی چارپائی کی پائنتی کی طرف بٹھا لیا۔پھر اہل کوفہ میں سے ایک شخص آیا جس کا نام قیس بن علقمہ تھا۔انہوں نے اس کا بھی استقبال کیا۔پھر اس نے بدگوئی کی اور بدگوئی کی۔سعید نے پوچھا یہ کسے گالیاں دے رہا ہے؟ کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو۔تو سعید نے کہا: (تعجب ہے) میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سامنے اصحاب رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہا جا رہا ہے اور آپ ہیں کہ اسے ٹوکتے ہی نہیں اور نہ سمجھاتے ہیں۔میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے،آپ ﷺ فرما رہے تھے،اور مجھے کوئی ایسی نہیں پڑی کہ آپ ﷺ پر کوئی ایسی بات کہہ دوں جو آپ نے نہ کہی ہو پھر کل جب آپ سے میری ملاقات ہو اور وہ مجھ سے پوچھ لیں ’’ابوبکر جنت میں ہے،عمر جنت میں ہے۔‘‘ اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا۔پھر کہا ان میں سے کسی ایک کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (جہاد میں) حاضر رہنا اور اس کے چہرے کا غبار آلود ہو جانا تمہاری ساری زندگی کے اعمال سے کہیں بہتر ہے خواہ تمہیں سیدنا نوح علیہ السلام کی زندگی ہی کیوں نہ مل جائے۔