Sunan Abi Dawood Hadith 4693 (سنن أبي داود)
[4693]إسنادہ صحیح
أخرجہ الترمذي (2955 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (100)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ وَيَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَاہُمْ،قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ،قَالَ: حَدَّثَنَا قَسَامَةُ بْنُ زُہَيْرٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّ اللہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ،فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَی قَدْرِ الْأَرْضِ, جَاءَ مِنْہُمُ الْأَحْمَرُ،وَالْأَبْيَضُ،وَالْأَسْوَدُ،وَبَيْنَ ذَلِكَ, وَالسَّہْلُ،وَالْحَزْنُ،وَالْخَبِيثُ،وَالطَّيِّبُ. زَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَی وَبَيْنَ ذَلِكَ. وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ چنانچہ آدم کی اولاد اس مٹی کے لحاظ سے ہوئی ہے،کئی سرخ ہیں اور کئی سفید،کئی سیاہ ہیں اور کئی ان کے بین بین۔کئی نرم خو ہیں اور کئی سخت طبیعت۔کئی بری طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور کئی اچھی اور عمدہ طبیعت والے۔‘‘ یحییٰ بن سعید کی روایت میں اضافہ ہے ’’اور کئی ان کے درمیان درمیان ہیں۔‘‘ یزید (یزید بن زریع) کی روایت میں ((أخبرنا)) کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔