Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4695 (سنن أبي داود)

[4695]صحیح

صحیح مسلم (8)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ،حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا كَہْمَسٌ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ،قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُہَنِيُّ،فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ-أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ-،فَقُلْنَا: لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَسَأَلْنَاہُ عَمَّا يَقُولُ ہَؤُلَاءِ فِي الْقَدَرِ! فَوَفَّقَ اللہُ لَنَا عَبْدَ اللہِ ابْنَ عُمَرَ دَاخِلًا فِي الْمَسْجِدِ،فَاكْتَنَفْتُہُ أَنَا وَصَاحِبِي،فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ،فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ, إِنَّہُ قَدْ ظَہَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَفَقَّرُونَ الْعِلْمَ, يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ! وَالْأَمْرَ أُنُفٌ؟! فَقَالَ: إِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْہُمْ: أَنِّي بَرِيءٌ مِنْہُمْ،وَہُمْ بُرَآءُ مِنِّي،وَالَّذِي يَحْلِفُ بِہِ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ, لَوْ أَنَّ لِأَحَدِہِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَہَبًا فَأَنْفَقَہُ مَا قَبِلَہُ اللہُ مِنْہُ حَتَّی يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ. ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ،قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ،إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ،شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ،لَا يُرَی عَلَيْہِ أَثَرُ السَّفَرِ،وَلَا نَعْرِفُہُ،حَتَّی جَلَسَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْہِ إِلَی رُكْبَتَيْہِ،وَوَضَعَ كَفَّيْہِ عَلَی فَخِذَيْہِ،وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: الْإِسْلَامُ, أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ،وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ،وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ،وَتَصُومَ رَمَضَانَ،وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْہِ سَبِيلًا قَالَ: صَدَقْتَ،قَالَ: فَعَجِبْنَا لَہُ يَسْأَلُہُ وَيُصَدِّقُہُ! قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللہِ،وَمَلَائِكَتِہِ،وَكُتُبِہِ،وَرُسُلِہِ،وَالْيَوْمِ الْآخِرِ،وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِہِ وَشَرِّہِ قَالَ: صَدَقْتَ،قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللہَ كَأَنَّكَ تَرَاہُ, فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ يَرَاكَ،قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ،قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِہَا؟ قَالَ: أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَہَا،وَأَنْ تَرَی الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ،قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ،فَلَبِثْتُ ثَلَاثًا،ثُمَّ قَالَ: يَا عُمَرُ! ہَلْ تَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟،قُلْتُ: اللہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ،قَالَ: فَإِنَّہُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ.

یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔پھر کہنے لگا: آپ مجھے ایمان کے متعلق بتلائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’(ایمان یہ ہے) کہ تم اﷲ پر،اس کے فرشتوں،اس کی کتابوں،اس کے رسولوں اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ اور تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر بھی ایمان لاؤ۔‘‘ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔پھر بولا مجھے احسان کے متعلق بتلائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اﷲ کی عبادت اس طرح سے کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو،اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو یہ ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس نے کہا کہ مجھے قیامت کے متعلق بتلائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس کی بابت جس سے پوچھ رہے ہو،وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔‘‘ تب اس نے کہا: اچھا مجھے اس کی علامت بتا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جہنم دے اور تم دیکھو کہ پاؤں اور جسم سے ننگے،فقیر اور بکریوں کے چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے بڑھنے لگ جائیں۔‘‘ پھر وہ چلا گیا۔پھر میں (عمر بن خطاب) تین دن رکا رہا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے عمر! کیا تمہیں خبر ہے وہ سائل کون تھا؟‘‘ میں نے عرض کیا: اﷲ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’بیشک وہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔‘‘