Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4696 (سنن أبي داود)

[4696]صحیح

انظر الحدیث السابق (4695)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَی،عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَيْدَةَ،عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ،وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،قَالَا: لَقِيَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ،فَذَكَرْنَا لَہُ الْقَدَرَ،وَمَا يَقُولُونَ فِيہِ... فَذَكَرَ نَحْوَہُ،زَادَ: قَالَ: وَسَأَلَہُ رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُہَيْنَةَ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! فِيمَا نَعْمَلُ, أَفِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَی؟ أَوْ فِي شَيْءٍ يُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: فِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا وَمَضَی،فَقَالَ الرَّجُلُ-أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ-: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: إِنَّ أَہْلَ الْجَنَّةِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّةِ،وَإِنَّ أَہْلَ النَّارِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ

جناب یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے تقدیر اور دیگر مسائل جو وہ لوگ بولتے تھے،دریافت کیے،تو مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیے اور مزید کہا: مزینہ یا جہینہ کے آدمی نے آپ ﷺ سے دریافت کیا: اے اﷲ کے رسول! ہم عمل کس بنا پر کریں؟ کیا یہ جان کر کہ سب کچھ طے ہو چکا ہے یا یہ سمجھ کر کہ معاملہ نیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ سمجھ کر کہ سب کچھ طے ہو چکا ہے۔‘‘ تو قوم میں سے ایک نے کہا: تو پھر عمل کیوں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ جنتی اہل جنت کے عملوں کی توفیق دیے جاتے ہیں اور دوزخی اہل جہنم کے عملوں کی توفیق دیے جاتے ہیں۔‘‘