Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4698 (سنن أبي داود)

[4698]إسنادہ صحیح

أخرجہ النسائي (4994 وسندہ صحیح) وأصلہ عند مسلم (9)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْہَمْدَانِيِّ،عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ،عَنْ أَبِي ذَرٍّ،وَأَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَا: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَجْلِسُ بَيْنَ ظَہْرَيْ أَصْحَابِہِ،فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلَا يَدْرِي أَيُّہُمْ ہُوَ! حَتَّی يَسْأَلَ،فَطَلَبْنَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ أَنْ نَجْعَلَ لَہُ مَجْلِسًا يَعْرِفُہُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاہُ،قَالَ: فَبَنَيْنَا لَہُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ فَجَلَسَ عَلَيْہِ،وَكُنَّا نَجْلِسُ بِجَنْبَتَيْہِ... وَذَكَرَ نَحْوَ ہَذَا الْخَبَرِ،فَأَقْبَلَ رَجُلٌ-فَذَكَرَ ہَيْئَتَہُ-،حَتَّی سَلَّمَ مِنْ طَرَفِ السِّمَاطِ،فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ! قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْہِ النَّبِيُّ ﷺ.

سیدنا ابوذر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھا کرتے تھے۔چنانچہ جب کوئی نو وارد آتا تو وہ آپ ﷺ کو پہچان نہ پاتا تھا حتیٰ کہ آپ ﷺ کے متعلق پوچھتا (کہ رسول اﷲ کون ہیں؟) تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کے لیے خاص جگہ بنا دیں تاکہ نو وارد جب آئے تو آپ کو پہچان لیا کرے۔چنانچہ ہم نے آپ ﷺ کے لیے مٹی کا ایک چبوترہ سا بنا دیا اور آپ ﷺ اس پر بیٹھے لگے اور ہم اس کے اطراف میں بیٹھ جایا کرتے تھے۔اور مذکورہ بالا خبر (حدیث) کی مانند بیان کیا۔چنانچہ ایک آدمی آیا اور اس کی شکل و صورت بیان کی،حتیٰ کہ اس نے جماعت کی ایک جانب سے سلام کیا اور کہا: السلام علیک یا محمد! نبی کریم ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔