Sunan Abi Dawood Hadith 4699 (سنن أبي داود)
[4699]إسنادہ صحیح
أخرجہ ابن ماجہ (77 وسندہ صحیح)، سفیان الثوري صرح بالسماع عند أحمد (35/465 ح21589) مشکوۃ المصابیح (115)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،عَنْ أَبِي سِنَانٍ،عَنْ وَہْبِ بْنِ خَالِدٍ الْحِمْصِيِّ عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ،قَالَ: أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ،فَقُلْتُ لَہُ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ! فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ, لَعَلَّ اللہَ أَنْ يُذْہِبَہُ مِنْ قَلْبِي! قَالَ: لَوْ أَنَّ اللہَ عَذَّبَ أَہْلَ سَمَاوَاتِہِ وَأَہْلَ أَرْضِہِ, عَذَّبَہُمْ وَہُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَہُمْ،وَلَوْ رَحِمَہُمْ, كَانَتْ رَحْمَتُہُ خَيْرًا لَہُمْ مِنْ أَعْمَالِہِمْ،وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَہَبًا فِي سَبِيلِ اللہِ, مَا قَبِلَہُ اللہُ مِنْكَ حَتَّی تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ،وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ،وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ،وَلَوْ مُتَّ عَلَی غَيْرِ ہَذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ. قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ مَسْعُودٍ،فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ،قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ،فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ،قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ،فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِثْلَ ذَلِكَ
جناب (عبداللہ بن فیروز) ابن دیلمی نے کہا کہ احد پہاڑ جتنا سونا بھی اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر ڈالو تو جب تک تقدیر پر ایمان نہیں لاؤ گے اﷲ تعالیٰ اسے تم سے قبول نہیں کرے گا اور (جب تک) یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے،وہ کسی صورت فوت نہیں ہو سکتا تھا اور جو حاصل نہیں ہوا،وہ کسی صورت حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔اگر تم اس عقیدے کے سوا کسی اور پر مر گئے تو جہنم میں جاؤ گے۔(ابن دیلمی) کہتے ہیں کہ پھر میں سیدنا عبداللہ مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا۔انہوں نے کہا: پھر میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا،تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا۔پھر میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا،تو انہوں نے بھی مجھ سے نبی کریم ﷺ سے اسی کی مثل بیان کیا۔