Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4703 (سنن أبي داود)

[4703] إسنادہ ضعیف

ترمذی (3075)

مسلم بن یسار سمعہ من نعیم بن ربیعۃ (وھو رجل مجہول،وثقہ ابن حبان وحدہ) عن عمر رضي اللہ عنہ

انوار الصحیفہ ص 165

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ زَيْدِ بْنِ أُنَيْسَةَ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَہُ،عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُہَنِيِّ،أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِلَ،عَنْ ہَذِہِ الْآيَةِ: وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُہُورِہِمْ[الأعراف: 172]-قَالَ: قَرَأَ الْقَعْنَبِيُّ الْآيَةَ-،فَقَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ سُئِلَ عَنْہَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ،ثُمَّ مَسَحَ ظَہْرَہُ بِيَمِينِہِ،فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ ذُرِّيَّةً،فَقَالَ: خَلَقْتُ ہَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ،ثُمَّ مَسَحَ ظَہْرَہُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ ذُرِّيَّةً،فَقَالَ: خَلَقْتُ ہَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ،فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللہِ! فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ, اسْتَعْمَلَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّةِ, حَتَّی يَمُوتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَہْلِ الْجَنَّةِ،فَيُدْخِلَہُ بِہِ الْجَنَّةَ،وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ،اسْتَعْمَلَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ،حَتَّی يَمُوتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَہْلِ النَّارِ،فَيُدْخِلَہُ بِہِ النَّارَ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ((وإذ أخذ ربک من بنی آدم من ظہورہم)) ’’اور جب تیرے رب نے بنو آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی اور انہیں خود انہی پر گواہ ٹھہرایا،کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں،ہم اقرار کرتے ہیں۔‘‘ کی تفسیر پوچھی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا،آپ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تھا،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا،پھر اپنا داہنا ہاتھ اس کی پشت پر پھیرا اور اس سے اس کی اولاد نکالی اور فرمایا: ان کو میں نے جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں والے عمل کریں گے۔پھر اس کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور اس سے اس کی اولاد نکالی اور فرمایا: ان کو میں نے دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخیوں والے عمل کریں گے۔‘‘ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کیونکر ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ اللہ عزوجل نے جب بندے کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے تو اس سے اہل جنت والے عمل کرواتا ہے حتیٰ کہ وہ اہل جنت کے عمل کرتا ہوا مر جائے گا تو اللہ انہی اعمال کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرما دے گا اور جب کسی بندے کو آگ کے لیے پیدا کیا ہے تو اس سے دوزخیوں والے عمل کرواتا ہے حتیٰ کہ وہ دوزخیوں والے عمل کرتا ہوا مر جائے تو اللہ اسی کے سبب سے اسے آگ میں ڈال دے گا۔“