Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4713 (سنن أبي داود)

[4713]صحیح

صحیح مسلم (2662)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی،عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ،عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ،قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِصَبِيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُصَلِّي عَلَيْہِ،قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! طُوبَی لِہَذَا, لَمْ يَعْمَلْ شَرًّا! وَلَمْ يَدْرِ بِہِ! فَقَالَ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ! إِنَّ اللہَ خَلَقَ الْجَنَّةَ،وَخَلَقَ لَہَا أَہْلًا, وَخَلَقَہَا لَہُمْ وَہُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِہِمْ،وَخَلَقَ النَّارَ،وَخَلَقَ لَہَا أَہْلًا, وَخَلَقَہَا لَہُمْ وَہُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِہِمْ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا،انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس انصاریوں کا ایک بچہ لایا گیا کہ آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مبارک ہو اسے! اس نے کوئی برا عمل نہیں کیا،نہ برے عملوں کی اسے کوئی خبر ہی ہوئی۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’عائشہ! یا پھر اس سے مختلف؟ بیشک اللہ عزوجل نے جنت پیدا فرمائی تو اس کے لیے مخلوق بھی پیدا کر دی اور اس جنت کو انہی کے لیے بنایا جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی پشتوں میں ہوتے ہیں۔اور ا ٓگ (جہنم) پیدا کی تو اس کے لیے مخلوق بھی پیدا کر دی اور اس جہنم کو ان ہی لوگوں کے لیے بنایا جبکہ وہ ابھی اپنے باپوں کی پشتوں میں ہوتے ہیں۔‘‘