Sunan Abi Dawood Hadith 4731 (سنن أبي داود)
[4731]إسنادہ حسن
أخرجہ ابن ماجہ (180 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (5658)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح،وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ،حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَی،عَنْ يَعْلَی ابْنِ عَطَاءٍ،عَنْ وَكِيعٍ, قَالَ مُوسَی ابْنِ عُدُسٍ: عَنْ أَبِي رَزِينٍ, قَالَ مُوسَی الْعُقَيْلِيِّ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَكُلُّنَا يَرَی رَبَّہُ!-قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: مُخْلِيًا بِہِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ-،وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِہِ؟ قَالَ: يَا أَبَا رَزِينٍ! أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَی الْقَمَرَ؟ قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِہِ،،ثُمَّ اتَّفَقَا قُلْتُ: بَلَی،قَالَ: فَاللہُ أَعْظَمُ،قَالَ: ابْنُ مُعَاذٍ قَالَ فَإِنَّمَا ہُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللہِ, فَاللہُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ.
سیدنا ابورزین (لقیط بن عامر) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سب اپنے رب کو دیکھیں گے؟ عبیداللہ بن معاذ کے الفاظ ہیں: کیا ہم سب قیامت کے روز اسے الگ الگ دیکھیں گے ‘ تو مخلوق میں اس کی کیا علامت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے ابورزین! کیا تم میں سے ہر کوئی چاند کو نہیں دیکھتا ہے؟‘‘ ابن معاذ کے الفاظ ہیں ’’کیا چودھویں کی رات کو ہر کوئی اسے اکیلے اکیلے نہیں دیکھتا ہے؟‘‘ پھر دونوں راویوں کا اتفاق ہے،میں نے کہا: کیوں نہیں (اس کو دیکھنے میں دقت یا ازدحام نہیں ہوتا)۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ تو اللہ کی شان بہت بلند ہے۔‘‘ ابن معاذ کے الفاظ ہیں ‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ تو اللہ کی ایک مخلوق کا حال ہے اور اللہ کی شان بےانتہا بلند ہے۔‘‘