Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4738 (سنن أبي داود)

[4738]صحیح

أخرجہ ابن خزیمۃ فی التوحید (283، نسخۃ أخریٰ 209 وسندہ صحیح موقوفًا) وللحدیث شواھد عند البخاري (7481)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ابْنِ إِبْرَاہِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قَالُوا،حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ،حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ،عَنْ مُسْلِمٍ،عَنْ مَسْرُوقٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِذَا تَكَلَّمَ اللہُ بِالْوَحْيِ, سَمِعَ أَہْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَةً كَجَرِّ السِّلْسِلَةِ عَلَی الصَّفَا،فَيُصْعَقُونَ،فَلَا يَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّی يَأْتِيَہُمْ جِبْرِيلُ،حَتَّی إِذَا جَاءَہُمْ جِبْرِيلُ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ،قَالَ: فَيَقُولُونَ: يَا جِبْرِيلُ! مَاذَا قَالَ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: الْحَقَّ،فَيَقُولُونَ: الْحَقَّ الْحَقَّ.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جب اللہ عزوجل کسی وحی کا کلام فرماتا ہے تو آسمان والے آسمان میں ایک آواز سنتے ہیں جیسے پتھر پر زنجیر گھسیٹی جا رہی ہو ‘ اس سے وہ بیہوش ہو جاتے ہیں اور پھر اسی کیفیت میں رہتے ہیں حتیٰ کہ ان کے پاس جبرائیل آتے ہیں ‘ ان کے آنے سے ان کے دلوں سے یہ کیفیت زائل ہو جاتی ہے اور وہ جبرائیل سے پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں: حق فرمایا۔تو وہ بھی کہتے ہیں: حق فرمایا ‘ حق فرمایا۔‘‘