Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4747 (سنن أبي داود)

[4747]حسن

صحیح مسلم (400)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ،قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ،يَقُولُ: أَغْفَی رَسُولُ اللہِ ﷺ إِغْفَاءَةً فَرَفَعَ رَأْسَہُ مُتَبَسِّمًا,-فَإِمَّا قَالَ لَہُمْ،وَإِمَّا قَالُوا لَہُ:-يَا رَسُولَ اللہِ! لِمَ ضَحِكْتَ؟ فَقَالَ: إِنَّہُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ،فَقَرَأَ: بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ[أول سورة الكوثر]،حَتَّی خَتَمَہَا،فَلَمَّا قَرَأَہَا،قَالَ: ہَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟،قَالُوا: اللہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ،قَالَ: فَإِنَّہُ نَہْرٌ وَعَدَنِيہِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ،وَعَلَيْہِ خَيْرٌ كَثِيرٌ, عَلَيْہِ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْہِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ،آنِيَتُہُ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آ گئی۔پھر آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا۔آپ ﷺ نے صحابہ سے کہا ‘ یا صحابہ نے آپ ﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرائے ہیں؟ فرمایا ’’مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔‘‘ تو آپ ﷺ نے پڑھا ((إنا أعطیناک الکوثر)) آخر تک۔جب آپ ﷺ نے اسے پڑھ لیا تو فرمایا ’’کیا جانتے ہو کوثر کیا ہے؟‘‘ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ ایک نہر ہے جو میرے رب عزوجل نے مجھے جنت میں دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور اس پر خیر کثیر ہو گی ‘ اس پر ایک حوض ہو گا جس پر قیامت کے روز میری امت کے لوگ آئیں گے ‘ اس کے پینے کے برتن (پیالے) ستاروں کی تعداد میں ہوں گے۔‘‘