Sunan Abi Dawood Hadith 4748 (سنن أبي داود)
[4748]صحیح
صحیح بخاری (4964)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
-حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ،قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ،قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي،قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: لَمَّا عُرِجَ بِنَبِيِّ اللہِ ﷺ فِي الْجَنَّةِ-أَوْ كَمَا قَالَ-،عُرِضَ لَہُ نَہْرٌ, حَافَتَاہُ الْيَاقُوتُ الْمُجَيَّبُ-أَوْ قَالَ: الْمُجَوَّفُ-،فَضَرَبَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعَہُ يَدَہُ،فَاسْتَخْرَجَ مِسْكًا،فَقَالَ مُحَمَّدٌ ﷺ لِلْمَلَكِ الَّذِي مَعَہُ: مَا ہَذَا؟،قَالَ: الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ کے نبی ﷺ کو معراج کے موقع پر جنت میں لے جایا گیا تو آپ ﷺ کو ایک نہر دکھلائی گئی جس کے کنارے ایسے یاقوت کے تھے کہ جو خول دار تھے۔تو وہ فرشتہ جو آپ ﷺ کے ساتھ تھا اس نے (اس کی تہہ میں) ہاتھ مارا اور کستوری نکالی۔تو نبی کریم ﷺ نے اس فرشتے سے پوچھا ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ عزوجل نے آپ کو دی ہے۔