Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4767 (سنن أبي داود)

[4767]صحیح

صحیح بخاری (3611) صحیح مسلم (1066)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ،عَنْ خَيْثَمَةَ،عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ،قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْہِ السَّلَام: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ،عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ حَدِيثًا،فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْہِ،وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ, فَإِنَّمَا الْحَرْبُ خَدْعَةٌ،سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ،سُفَہَاءُ الْأَحْلَامِ،يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ،يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ،لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُہُمْ حَنَاجِرَہُمْ،فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوہُمْ فَاقْتُلُوہُمْ،فَإِنَّ قَتْلَہُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَہُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں (تو اس میں کوئی خفا نہیں ہوتا ‘ بالکل حق اور صاف ہوتی ہے) مجھے آسمان سے گرنا ‘ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولنے کی نسبت بہت زیادہ پسند ہے اور جب میں تم سے آپس کی کوئی بات کرتا ہوں تو (یاد رکھو) لڑائی چال کا نام ہے (بہت سے مصلحتیں ملحوظ رکھنی ضروری ہیں اس لیے ان باتوں کو عام نہیں کرنا چاہیئے) میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے ’’آخری زمانے میں لوگ آئیں گے جو عمروں میں نوجوان ہوں گے مگر بے عقل۔مخلوق میں سب سے افضل ترین شخصیت (رسول اللہ ﷺ) کی باتیں کرتے ہوں گے مگر دین سے ایسے گزر جائیں گے جیسے کہ تیر اپنے شکار سے نکل جاتا ہے۔ان کا ایمان ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترتا ہو گا۔تم ان سے جہاں بھی ملو ‘ انہیں قتل کر دینا۔بلاشبہ ان کے قتل میں ان کے قاتل کے لیے قیامت کے روز بہت بڑا اجر ہو گا۔‘‘جب میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں (تو اس میں کوئی خفا نہیں ہوتا ‘ بالکل حق اور صاف ہوتی ہے) مجھے آسمان سے گرنا ‘ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولنے کی نسبت بہت زیادہ پسند ہے اور جب میں تم سے آپس کی کوئی بات کرتا ہوں تو (یاد رکھو) لڑائی چال کا نام ہے (بہت سے مصلحتیں ملحوظ رکھنی ضروری ہیں اس لیے ان باتوں کو عام نہیں کرنا چاہیئے) میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے ’’آخری زمانے میں لوگ آئیں گے جو عمروں میں نوجوان ہوں گے مگر بے عقل۔مخلوق میں سب سے افضل ترین شخصیت (رسول اللہ ﷺ) کی باتیں کرتے ہوں گے مگر دین سے ایسے گزر جائیں گے جیسے کہ تیر اپنے شکار سے نکل جاتا ہے۔ان کا ایمان ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترتا ہو گا۔تم ان سے جہاں بھی ملو ‘ انہیں قتل کر دینا۔بلاشبہ ان کے قتل میں ان کے قاتل کے لیے قیامت کے روز بہت بڑا اجر ہو گا۔‘‘