Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4772 (سنن أبي داود)

[4772]إسنادہ صحیح

أخرجہ النسائي (4099، 4100 وسندھما صحیح) ورواہ الترمذي (1421 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (3529)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ،حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا أَيُّوبَ الْہَاشِمِيَّ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ ابْنِ سَعْدٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،عَنْ طَلْحةَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَوْفٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِيدٌ،وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَہْلِہِ،أَوْ دُونَ دَمِہِ،أَوْ دُونَ دِينِہِ, فَہُوَ شَہِيدٌ. حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ،حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا أَيُّوبَ الْہَاشِمِيَّ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ ابْنِ سَعْدٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،عَنْ طَلْحةَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَوْفٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِيدٌ،وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَہْلِہِ،أَوْ دُونَ دَمِہِ،أَوْ دُونَ دِينِہِ, فَہُوَ شَہِيدٌ.

سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے۔اور جو اپنے گھر والوں کی حفاظت یا خون یا دین کے دفاع میں قتل ہو جائے ‘ وہ شہید ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن قریش بخاری نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے نعیم بن حماد سے سنا ‘ وہ کہتے تھے کہ فرقہ معتزلہ کے لوگ نبی کریم ﷺ کی تقریباً دو ہزار احادیث رد کرتے ہیں۔جناب عوف بن مالک رحمہ اللہ سے مروی ہے ‘ انہوں نے کہا: میں نے حجاج (حجاج بن یوسف) کو سنا ‘ وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مثال اللہ کے ہاں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی مانند ہے۔پھر اس نے یہ آیت پڑھی ((إذ قال اللہ یعیسی *** الذین کفروا)) ’’اور جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا (جسم و جان سمیت) اپنے پاس لانے والا ہوں ‘ تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے وہ اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کرتا تھا۔جناب وہب بن منبہ اپنے بھائی ہمام بن منبہ کے واسطے سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ سفارش کرو اجر پاؤ گے ‘ بلاشبہ میں کسی معاملے کا ارادہ کرتا ہوں تو اسے ٹالتا رہتا ہوں تاکہ تم سفارش کرو اور ثواب کے مستحق بنو۔اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’سفارش کیا کرو اجر پاؤ گے۔‘‘ جناب ابومعمر اپنی سند سے بواسطہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے اس ک مثل روایت کرتے ہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا ‘ وہ فرماتے تھے: عفان بن مسلم نے کہا کہ یحییٰ بن بن سعید القطان ‘ ہمام بن یحییٰ سے روایت نہیں کرتے تھے۔امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: عفان (عفان بن مسلم) نے بتایا کہ جب معاذ بن ہشام (دستوائی) نے اور احادیث بیان کیں ‘ جن سے ہمام کی مرویات کی تائید ہوئی (تو یحییٰ بن سعید نے ان کے بارے میں اپنے رائے بدل لی) چنانچہ اس کے بعد یحییٰ یوں پوچھا کرتے تھے: ہمام نے اس بارے میں کیا کہا ہے؟ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے سنا ‘ وہ کہتے تھے کہ عفان اور ان کے ساتھیوں کا ہمام سے سماع عبدالرحمٰن بن مہدی کے (ہمام سے) سماع سے بہت بہتر ہے۔(اور عفان سماع کے بعد) کتابوں کا مراجعہ کرتے رہتے تھے۔سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عفان نے انشاءاللہ ہمیں بتایا کہ مجھے ہمام بن یحییٰ نے کہا: میں غلطی کرتا رہا کہ مراجعہ نہیں کرتا تھا اور اس بات پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے علی بن عبداللہ (المدینی) سے سنا ‘ وہ کہتے تھے: اپنی سماع کردہ احادیث سے بخوبی آگاہ ہونے اور ان کے مراجعہ میں شعبہ سب سے بڑھ کر ہیں اور روایت کرنے میں سب سے عمدہ ہشام (ہشام دستوائی) اور حفظ میں سعید بن ابی عروبہ سب سے بڑھ کر ہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات امام احمد رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ نے ہشام (ہشام دستوائی) کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ سب (اس کے بیٹے) معاذ بن ہشام سے بیان کرتے ہیں۔اور ہشام کا سعید سے کیا مقابلہ ‘ اگر وہ اس سے موازنہ کیا بھی جائے۔