Sunan Abi Dawood Hadith 4874 (سنن أبي داود)
[4874]صحیح
صحیح مسلم (2589)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ, أَنَّہُ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللہِ! مَا الْغِيبَةُ؟ قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَہُ،قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟! قَالَ: إِنْ كَانَ فِيہِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَہُ،وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيہِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَہَتَّہُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: اے اﷲ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’تمہارا اپنے بھائی کا ایسے انداز میں ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔‘‘ کہا گیا: جو بات میں کہہ رہا ہوں اگر وہ میرے بھائی میں (فی الواقع) ہو؟ (تو بھی وہ غیبت ہو گی؟) آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر اس میں وہ بات موجود ہو اور تم کہو ‘ تب ہی تو غیبت ہے۔اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ ہو ‘ تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔‘‘