Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4875 (سنن أبي داود)

[4875]إسنادہ صحیح

أخرجہ الترمذي (2502 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (4853)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَی،عَنْ سُفْيَانَ،قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ،عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ ﷺ: حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا!،قَالَ غَيْرُ مُسَدَّدٍ تَعْنِي: قَصِيرَةً!-،فَقَالَ: لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً, لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْہُ،قَالَتْ: وَحَكَيْتُ لَہُ إِنْسَانًا! فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا: آپ کو صفیہ رضی اللہ عنہا میں یہی کافی ہے کہ وہ ایسے ایسے ہے،مسدد کے علاوہ دوسرے نے وضاحت کی کہ اس سے ان کی مراد سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا پستہ قد ہونا تھا۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم نے ایسا کلمہ کہا ہے کہ اگر اسے سمندر میں ملا دیا جائے تو کڑوا ہو جائے۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے سامنے کسی کی نقل اتاری تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں کسی کی نقل اتارنا پسند نہیں کرتا ‘ خواہ مجھے اتنا اتنا مال بھی ملے۔‘‘