Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4885 (سنن أبي داود)

[4885] إسنادہ ضعیف

أبو عبد اللہ الجشمي: مجہول (تقریب التہذیب: 8208)

انوار الصحیفہ ص 170

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ،أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ مِنْ كِتَابِہِ،قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي،حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ،عَنْ أَبِي عَبْدِ اللہِ الْجُشَمِيِّ،قَالَ: حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ،قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ،فَأَنَاخَ رَاحِلَتَہُ،ثُمَّ عَقَلَہَا،ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ،فَصَلَّی خَلْفَ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَتَی رَاحِلَتَہُ،فَأَطْلَقَہَا،ثُمَّ رَكِبَ،ثُمَّ نَادَی: اللہُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا،وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَتَقُولُونَ ہُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُہُ! أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَی مَا قَالَ قَالُوا بَلَی؟!.

سیدنا جندب (جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آیا،اس نے اپنی سواری بٹھائی،اس کا گھٹنا باندھا پھر مسجد کے اندر آ گیا اور رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا،اسے کھولا،اس پر سوار ہوا پھر اونچی آواز میں بولا: اے اللہ! مجھ پر رحم کر اور محمد (ﷺ) پر رحم کر،اور ہماری اس رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم کیا سمجھتے ہو یہ زیادہ جاہل ہے یا اس کا اونٹ۔کیا تم نے سنا نہیں جو وہ کہہ رہا ہے؟‘‘ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں۔