Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4896 (سنن أبي داود)

[4896]حسن

الحدیث الآتي (4897) شاھد لہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ،أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ،عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ،عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرَّرِ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ, أَنَّہُ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللہِ ﷺ جَالِسٌ وَمَعَہُ أَصْحَابُہُ،وَقَعَ رَجُلٌ بِأَبِي بَكْرٍ فَآذَاہُ،فَصَمَتَ عَنْہُ أَبُو بَكْرٍ،ثُمَّ آذَاہُ الثَّانِيَةَ،فَصَمَتَ عَنْہُ أَبُو بَكْرٍ،ثُمَّ آذَاہُ الثَّالِثَةَ فَانْتَصَرَ مِنْہُ أَبُو بَكْرٍ،فَقَامَ رَسُولُ اللہِ حِينَ انْتَصَرَ أَبُو بَكْرٍ،فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَوَجَدْتَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللہِ! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: نَزَلَ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ يُكَذِّبُہُ بِمَا قَالَ لَكَ،فَلَمَّا انْتَصَرْتَ وَقَعَ الشَّيْطَانُ،فَلَمْ أَكُنْ لِأَجْلِسَ إِذْ وَقَعَ الشَّيْطَانُ.

جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے صحابہ بھی تھے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا اور انہیں اذیت دی،تو ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔اس نے پھر دوسری بار اذیت دی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔اس نے پھر تیسری بار اذیت دی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے بدلے میں کچھ کہا۔جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے بدلہ لیا تو رسول اللہ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے،تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ سے ناراض ہو گئے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’آسمان سے ایک فرشتہ اترا تھا جو اس آدمی کو اس کے کہے پر جھٹلا رہا تھا۔جب تم نے اس سے بدلہ لیا تو شیطان آ گیا۔اور جب شیطان آ گیا تو میں نہیں بیٹھ سکتا۔“