Sunan Abi Dawood Hadith 4898 (سنن أبي داود)
[4898] إسنادہ ضعیف
علي بن زید ضعیف وأمہ مجہولۃ کما قال المنذري رحمہ اﷲ(عون المعبود 426/4)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ،حَدَّثَنَا أَبِي ح،وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ،حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْمَعْنَی وَاحِدٌ،قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ،قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ عَنِ الِانْتِصَارِ:وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْہِمْ مِنْ سَبِيلٍ[الشوری: 41]؟ فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ،عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيہِ-قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَزَعَمُوا أَنَّہَا كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ-،قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَعِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ،فَجَعَلَ يَصْنَعُ شَيْئًا بِيَدِہِ،فَقُلْتُ: بِيَدِہِ حَتَّی فَطَّنْتُہُ لَہَا،فَأَمْسَكَ،وَأَقْبَلَتْ زَيْنَبُ تَقَحَّمُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا،فَنَہَاہَا،فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَہِيَ،فَقَالَ: لِعَائِشَةَ: سُبِّيہَا،فَسَبَّتْہَا،فَغَلَبَتْہَا،فَانْطَلَقَتْ زَيْنَبُ إِلَی عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ،فَقَالَتْ: إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا وَقَعَتْ بِكُمْ! وَفَعَلَتْ! فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ،فَقَالَ لَہَا: إِنَّہَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ! فَانْصَرَفَتْ،فَقَالَتْ لَہُمْ: أَنِّي قُلْتُ: لَہُ كَذَا وَكَذَا،فَقَالَ لِي: كَذَا وَكَذَا،قَالَ: وَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَكَلَّمَہُ فِي ذَلِكَ.
جناب (عبداللہ) ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں آیت کریمہ ((ولمن انتصر بعد ظلمہ فأولئک ما علیہم من سبیل)) میں وارد ((انتصار)) کے معنی پوچھتا تھا کہ مجھے علی بن زید بن جدعان نے اپنی سوتیلی والدہ ام محمد سے روایت کیا اور ابن عون نے کہا: ان لوگوں کا خیال تھا کہ ام محمد،ام المؤمنین (سیدہ عائشہ) رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا جایا کرتی تھی ام محمد نے کہا: ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے،جبکہ (ام المؤمنین) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بھی ہمارے ہاں تھیں،تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے ہاتھ سے چھیڑا (جیسے میاں بیوی میں ہوتا ہے) تو میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور آپ کو اشارے سے سمجھایا کہ وہ (زینب بھی) ہمارے ہاں موجود ہیں۔تو آپ رک گئے۔پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بولنے لگیں۔رسول اللہ ﷺ نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو منع کیا مگر وہ نہ رکیں تو آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اسے جواب دو،چنانچہ انہوں نے اسی انداز سے جواب دیا اور (سیدہ زینب پر) غالب آ گئیں۔تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں گئیں اور کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تم لوگوں (بنو ہاشم) کے بارے میں ایسے ایسے باتیں کرتی ہے اور ایسے ایسے کیا ہے۔تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا (رسول اللہ ﷺ کے پاس) آئیں تو آپ ﷺ نے انہیں کہا ’’رب کعبہ کی قسم! یہ تمہارے ابا کی چہیتی ہے۔‘‘ چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا واپس چلی گئیں اور آ کر انہیں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور زینب رضی اللہ عنہا کو) بتایا کہ میں نے آپ کو ایسے ایسے کہا ہے تو آپ نے مجھے ایسے ایسے کہا ہے۔چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس بارے میں بات کی۔