Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4912 (سنن أبي داود)

[4912] إسنادہ ضعیف

ھلال مستور

انوار الصحیفہ ص 171، 172

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ أَنَّ أَبَا عَامِرٍ أَخْبَرَہُم،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہِلَالٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَہْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ،فَإِنْ مَرَّتْ بِہِ ثَلَاثٌ, فَلْيَلْقَہُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْہِ،فَإِنْ رَدَّ عَلَيْہِ السَّلَامَ, فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ،وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْہِ, فَقَدْ بَاءَ بِالْإِثْمِ. زَادَ أَحْمَدُ وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْہِجْرَةِ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ کسی صاحب ایمان سے تین دن سے زیادہ مقاطعہ کرے۔اگر تین دن گزر جائیں تو چاہیئے کہ اس سے ملے اور اس کو سلام کہے۔اگر وہ سلام کا جواب دیدے تو اجر و ثواب میں دونوں شریک ہو گئے۔اگر وہ جواب نہ دے تو اس کا گناہ اسی دوسرے کے ذمے ہے۔‘‘ احمد (احمد بن سعید سرخسی) نے مزید کہا: ’’سلام کرنے والا مقاطعے کے گناہ سے نکل گیا۔‘‘