Sunan Abi Dawood Hadith 4920 (سنن أبي داود)
[4920]صحیح
صحیح بخاری (2692) صحیح مسلم (2605)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّہْرِيِّ ح،وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ح،وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّوَيْہِ الْمَرْوَزِيُّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ أُمِّہِ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَمْ: يَكْذِبْ مَنْ نَمَی بَيْنَ اثْنَيْنِ لِيُصْلِحَ. وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُسَدَّدٌ: لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ, فَقَالَ: خَيْرًا،أَوْ نَمَی خَيْرًا.
جناب حمید بن عبدالرحمٰن اپنی والدہ (ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’جس شخص نے دو آدمیوں میں صلح کرانے کی خاطر بات بنا کر کہی ہو،اس نے جھوٹ نہیں بولا۔‘‘ احمد بن محمد اور مسدد کی روایت کے الفاظ ہیں ’’جس نے لوگوں میں صلح کرانے کے لیے بھلی بات کہی یا پہنچائی وہ جھوٹا نہیں ہے۔‘‘