Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4921 (سنن أبي داود)

[4921]صحیح

انظر الحدیث السابق (4920)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجِيزِيُّ،حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ،عَنْ نَافِعٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ الْہَادِي أَنَّ عَبْدَ الْوَہَّابِ ابْنَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَہُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ أُمِّہِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ،قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَقُولُ: لَا أَعُدُّہُ كَاذِبًا: الرَّجُلُ يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ،يَقُولُ الْقَوْلَ وَلَا يُرِيدُ بِہِ إِلَّا الْإِصْلَاحَ،وَالرَّجُلُ يَقُولُ فِي الْحَرْبِ،وَالرَّجُلُ يُحَدِّثُ امْرَأَتَہُ،وَالْمَرْأَةُ تُحَدِّثُ زَوْجَہَا.

سیدہ ام کلثو بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں: میں نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ کی کہیں اجازت دی ہو مگر تین مواقع پر۔رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے ’’میں ایسے آدمی کو جھوٹا شمار نہیں کرتا جو لوگوں میں صلح کرانے کی غرض سے کوئی بات بناتا ہو اور اس کا مقصد سوائے صلح اور اصلاح کے کچھ نہ ہو،اور جو شخص لڑائی میں کوئی بات بنائے اور شوہر جو اپنی بیوی سے یا بیوی اپنے شوہر کے سامنے کوئی بات بنائے۔‘‘