Sunan Abi Dawood Hadith 4922 (سنن أبي داود)
[4922]صحیح
صحیح بخاری (5147)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا بِشْرٌ،عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ،قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَدَخَلَ عَلَيَّ صَبِيحَةَ بُنِيَ بِي،فَجَلَسَ عَلَی فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِدُفٍّ لَہُنَّ،وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ،إِلَی أَنْ قَالَتْ إِحْدَاہُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي الْغَدِ! فَقَالَ: دَعِي ہَذِہِ،وَقُولِي الَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ.
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب میری رخصتی ہوئی اس صبح رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے اور میرے بستر پر اسی طرح تشریف فرما ہوئے تھے جیسے تم (خالد بن ذکوان) میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔تو (انصار کی) چھوٹی بچیاں اپنے اپنے دف بجانے لگیں اور میرے ان آباء کا ذکر کرنے لگیں جو بدر میں شہید ہو گئے تھے۔حتیٰ کہ ان میں سے ایک بچی نے کہا: اور ہم میں ایسا نبی ہے جو کل آئندہ کی بات جانتا ہے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اس بات کو چھوڑ دو اور وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھی۔“