Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4928 (سنن أبي داود)

[4928] إسنادہ ضعیف

قال الدار قطني: ’’أبو ھاشم و أبو یسار مجہولان ولا یثبت الحدیث‘‘ (55/2) وقال الذھبي: ’’إسناد مظلم لمتن منکر‘‘ (میزان الإعتدال 4/ 588)

وأما النھي عن قتل المصلین فصحیح،انظر المشکوۃ بتحقیقي (3365)

وللنھي عن ضرب المصلین،انظر مسند الإمام أحمد (250/5،258) و سندہ حسن

انوار الصحیفہ ص 172

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ أَخْبَرَہُمْ،عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ يُونُسَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ،عَنْ أَبِي يَسَارٍ الْقُرَشِيِّ،عَنْ أَبِي ہَاشِمٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ, أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أُتِيَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَّبَ يَدَيْہِ وَرِجْلَيْہِ بِالْحِنَّاءِ،فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: مَا بَالُ ہَذَا؟،فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللہِ! يَتَشَبَّہُ بِالنِّسَاءِ! فَأَمَرَ بِہِ فَنُفِيَ إِلَی النَّقِيعِ! فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! أَلَا نَقْتُلُہُ؟ فَقَالَ: إِنِّي نُہِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ. قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: وَالنَّقِيعُ: نَاحِيَةٌ عَنِ الْمَدِينَةِ،وَلَيْسَ بِالْبَقِيعِ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک ہیجڑا لایا گیا جس نے اپنے ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے۔نبی کریم ﷺ نے اس کے متعلق دریافت فرمایا ’’اسے کیا ہے؟‘‘ بتایا گیا کہ اے اﷲ کے رسول! یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت کرتا ہے۔تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور اسے مقام نقیع کی طرف نکال باہر کر دیا گیا۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اﷲ کے رسول! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔‘‘ ابواسامہ کہتے ہیں کہ نقیع (نون کے ساتھ) مدینہ سے ایک جانب ایک جگہ کا نام ہے جو بقیع سے الگ ہے۔